اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بغداد نے دمشق کو ایک پیغام میں متنبہ کیا ہے کہ اگر شام لبنان کی حالیہ پیش رفت میں کوئی کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً اگر شامی سرزمین سے لبنان کے شیعوں یا حزب اللہ کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا، تو اس پر عراقی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ان ذرائع کے مطابق شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع (الجولانی) نے عراقی حکام سے گفتگو میں کہا ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف مؤقف اختیار کرنے سے متعلق امریکی درخواست قبول نہیں کی، اور شامی حکومت لبنان کے معاملے میں مداخلت یا ماضی کی پالیسیوں کی طرف واپس جانے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ داخلی استحکام کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر اعظم آئندہ دمشق کے دورے کے دوران شامی حکام سے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تیل کی برآمدات، تجارتی راستوں کی بحالی، شام میں شیعہ برادری کی صورت حال، مقدس مقامات کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی جیسے امور پر بات چیت کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بغداد کی یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ شام سے لبنان کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، تاہم بعض ذرائع کے مطابق ترکی کی حمایت کے بغیر ایسے کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ